Thursday, 30 June 2011

thirteen

visit 4 rad e razakhaniyat data

huge data   ............... www.razakhaniyat.weebly.com 
picture data    ..........  www.deobandcamp.weebly.com






AYAT # THIRTEEN

(سورة النعام )
اَلَمْ يَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَاَرْسَلْنَا السَّمَاۗءَ عَلَيْهِمْ مِّدْرَارًا  ۠ وَّجَعَلْنَا الْاَنْھٰرَ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَاَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِيْنَ   Č۝

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کردیا جن کے پاؤں ملک میں ایسے جما دیئے تھے کہ تمہارے پاؤں بھی ایسے نہیں جمائے۔ اور ان پر آسمان سے لگاتار مینہ برسایا اور نہریں بنا دیں جو ان کے (مکانوں کے) نیچے بہ رہی تھیں۔ پھر انکو انکے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور ان کے بعد اور امتیں پیدا کردیں
 (TARJUMA MOULANA FATHY MOUHAMMAD JAHLANDRI)

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم ان سے پہلے کتنی جماعتوں کو ہلاک کر چکے ہیں جن کو ہم نے دنیا میں ایسی قوت دی تھی کہ تم کو وہ قوت نہیں دی اور ہم نے ان پر خوب بارشیں برسائیں اور ہم نے ان کے نیچے سے نہریں جاری کیں۔ پھر ہم نے ان کو گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا (١) اور ان کے بعد دوسری جماعتوں کو پیدا کر دیا (٢)۔
 (MOULANA JUNAA GAREE)

کیا دیکھتے نہیں کہ کتنی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں جن کو جما دیا تھا ہم نے ملک میں اتنا کہ جتنا تم کو نہیں جمایا اور چھوڑ دیا ہم نے ان پر آسمان کو لگاتار برستا ہوا اور بنا دیں ہم نے نہریں بہتی ہوئی ان کے نیچے پھر ہلاک کیا ہم نے ان کو ان کے گناہوں پر اور پیدا کیا ہم نے ان کے بعد اور امتوں کو ف ٦ 
 (TARJUMA MEHMOOD UL HASAN)

کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے (ف۱۲) کتنی سنگتیں کھپا دیں انہیں ہم نے زمین میں وہ جماؤ دیا (ف۱۳) جو تم کو نہ دیا اور ان پر موسلا دھار پانی بھیجا (ف۱٤) اور ان کے نیچے نہریں بہائیں (ف۱۵) تو انہیں ہم نے ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا (ف۱٦) اور ان کے بعد اور سنگت اٹھائی (ف۱۷)
 (AHMED RAZA KHAN)
TAFSIR




(ERTAFSEER IBAN E KAS)
کفار کو نافرمانی پر سخت انتباہ
 کفار کی سرکشی کی انتہا بیان ہو رہی ہے کہ ہر امر کی تکذیب پر گویا انہوں نے کمر باندھ لی ہے ، نیت کر کے بیٹھے ہیں کہ جو نشانی دیکھیں گے، اسی کا انکار کریں گے، ان کی یہ خطرناک روش انہیں ایک دن ذلیل کرے گی اور وہ ذائقہ آئے گا کہ ہونٹ کاٹتے رہیں ، یہ یوں نہ سمجھیں کہ ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے نہیں بلکہ عنقریب انہیں اللہ کی پکڑ ہو گی ، کیا ان سے پہلے کے ایسے سرکشوں کے حالات ان کے کان میں نہیں پڑے؟ کیا ان کے عبرتناک انجام ان کی نگاہوں کے سامنے نہیں؟ وہ تو قوت طاقت میں اور زور میں ان سے بہت بڑھے چڑھے ہوئے تھے، وہ اپنی رہائش میں اور زمین کو بسانے میں ان سے کہیں زیادہ آگے تھے، ان کے لاؤ لشکر ، ان کی جاہ و عزت، غرور و تمکنت ان سے کہیں زیادہ تھی ، ہم نے انہیں خوب مست بنا رکھا تھا، بارشیں پے درپے حسن ضرورت ان پر برابر برسا کرتی تھیں، زمین ہر وقت ترو تازہ رہتی تھی چاروں طرف پانی کی ریل پیل کی وجہ سے آبشاریں اور چشمے صاف شفاف پانی کے بہتے رہتے تھے ۔ جب وہ تکبر میں آ گئے، ہماری نشانیوں کی حقارت کرنے لگے تو آخر نتیجہ یہ ہوا کہ برباد کر دیئے گئے ۔ تہس نہس ہو گئے ، بھوسی اڑ گئی ۔ لوگوں میں ان کے فسانے باقی رہ گئے اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے اور ان کے بعد ان کے قائم مقام اور زمانہ آیا ۔ اگر وہ بھی اسی روش پر چلا تو یہی سلوک ان کے ساتھی بھی ہوتا، اتنی نظریں جب تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے، یہ کس قدر تمہاری غفلت ہے ، یاد رکھو تم کچھ اللہ کے ایسے لاڈلے نہیں ہو کہ جن کاموں کی وجہ سے اوروں کو وہ تباہ کر دے وہ کام تم کرتے رہو اور تباہی سے بچ جاؤ ۔ اسی طرح جن رسولوں کو جھٹلانے اور ان کو نہ ماننے کی وجہ سے وہ ہلاک ہوئے ان رسولوں سے کسی طرح یہ رسول کم درجے کے نہیں بلکہ ان سے زیادہ اللہ کے ہاں یہ با عزت ہیں ۔ یقین مانو کہ پہلوں سے بھی سخت اور نہایت سخت عذاب تم پر آئیں گے، پس تم اپنی اس غلط روش کو چھوڑ دو ، یہ صرف اللہ تعالٰی کا لطف و کرم ہے کہ اس نے تمہاری بدترین اور انتہائی شرارتوں کے باوجود تمہیں ڈھیل دے رکھی ہے ۔


(TAFSEER MOULANA SLAH UDDIN YOUSUF)
۔١ یعنی جب گناہوں کی پاداش میں تم سے پہلی امتوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں درآں حالیکہ وہ طاقتور و قوت میں بھی تم سے کہیں زیادہ تھیں اور خوش حالی اور وسائل رزق کی فروانی میں بھی تم سے بڑھ کر تھیں، تو تمہیں ہلاک کرنا ہمارے لئے کیا مشکل ہے؟ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی قوم کی محض مادی ترقی اور خوش حالی سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ بہت کامیاب و کامران ہے۔ یہ استدارج وامہال کی وہ صورتیں ہیں جو بطور امتحان اللہ تعالٰی قوموں کو عطا فرماتا ہے۔ لیکن جب یہ مہلت عمل ختم ہو جاتی ہے تو پھر یہ ساری ترقیاں اور خوش حالیاں انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے میں کامیاب نہیں ہوتیں۔
٦۔٢ تاکہ انہیں بھی پچھلی قوموں کی طرح آزمائیں۔



( MOULANA SHABIR AHMED USMANI
ف ٦  یعنی عاد وثمود و غیرہ جن کو تم سے بڑھ کر طاقت اور سازو سامان دیا گیا تھا۔ بارشوں اور نہروں کی وجہ سے ان کے باغ اور کھیت شاداب تھے، عیش وخوشحالی کا دور دورہ تھا۔ جب انھوں نے بغاوت اور تکذیب پر کمر باندھی اور نشانہائے قدرت کی ہنسی اڑانے لگے۔ تو ہم نے ان کے جرموں کی پاداش میں ایسا پکڑا کہ نام و نشان بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھر انکے بعد دوسری امتیں پیدا کیں اور منکرین و مکَذِّبین کے ساتھ یہ ہی سلسلہ جاری رہا کیا۔ مجرمین تباہ ہوتے رہے اور دنیا کی آبادی میں کچھ خلل نہیں پڑا۔



( BRALVI - TAFSEER NAEEM UDDIN MURADABADI)
(ف12) پچھلی اُمّتوں میں سے ۔
(ف13) قوّت و مال اور دنیا کے کثیر سامان دے کر ۔
(ف14) جس سے کھیتیاں شاداب ہوں ۔
(ف15) جس سے باغ پرورش پائے اور دنیا کی زندگانی کے لئے عیش و راحت کے اسباب بہم پہنچے ۔
(ف16) کہ انہوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور ان کا یہ سر و سامان انہیں ہلاک سے نہ بچا سکا ۔
(ف17) اور دوسرے قَرن والوں کو ان کا جانشین کیا ، مدعا یہ ہے کہ گزری ہوئی اُمّتوں کے حال سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا چاہئے کہ وہ لوگ باوجود قوت و دولت و کثرت مال و عیال کے کفر و طُغیان کی وجہ سے ہلاک کر دیئے گئے تو چاہئے کہ ان کے حال سے عبرت حاصل کر کے خوابِ غفلت سے بیدار ہوں ۔


twelve

visit 4 rad e razakhaniyat data

huge data   ............... www.razakhaniyat.weebly.com 
picture data    ..........  www.deobandcamp.weebly.com






AYAT # TWELVE

(سورة الفجر)
ااَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ   Č۝۽

(کافروں کو ضرور عذاب ہو گا) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا کیا
 (TARJUMA MOULANA FATHY MOUHAMMAD JAHLANDRI)

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عادیوں کے ساتھ کیا کیا (١)۔
 (MOULANA JUNAA GAREE)

تو نے نہ دیکھا کیسا کیا تیرے رب نے عاد کے ساتھ
 (TARJUMA MEHMOOD UL HASAN)

(٦) کیا تم نے نہ دیکھا (ف۷) تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیسا کیا،
 (AHMED RAZA KHAN)


 (TAFSEER MOULANA SLAH UDDIN YOUSUF)
٦۔١ ان کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجے گئے تھے انہوں نے جھٹلایا، بالآخر اللہ تعالٰی نے سخت ہوا کا عذاب بھیجا۔ جو متواتر سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی اور انہیں نہس تہس کر کے رکھ دیا۔

( BRALVI - TAFSEER NAEEM UDDIN MURADABADI)
(ف6) یعنی یہ امور اربابِ عقل کے نزدیک ایسی عظمت رکھتے ہیں کہ خبروں کوان کے ساتھ موکّد کرنا شایاں ہے کیونکہ یہ ایسے عجائب و دلائل پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالٰی کی توحید اور اس کی ربوبیّت پر دلالت کرتے ہیں اور جواب قسم یہ ہے کہ کافر ضرور عذاب کئے جائیں گے ، اس جواب پر اگلی آیتیں دلالت کرتی ہیں ۔

eleven

visit 4 rad e razakhaniyat data

huge data   ............... www.razakhaniyat.weebly.com 
picture data    ..........  www.deobandcamp.weebly.com






AYAT # ELEVEN

(سورة الفجر)
اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ    Ǻ۝ۭ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟
 (TARJUMA MOULANA FATHY MOUHAMMAD JAHLANDRI)

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ (١)
 (MOULANA JUNAA GAREE)

کیا تو نے نہ دیکھا کیسا کیا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ ف١
 (TARJUMA MEHMOOD UL HASAN)

(۱) اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کیا حال کیا (ف۲)
 (AHMED RAZA KHAN)



TAFSIR


(ERTAFSEER IBAN E KAS)
ابرہہ اور اس کا حشر:
اللہ رب العزت نے قریش پر جو اپنی خاص نعمت انعام فرمائی تھی اس کا ذکر کر رہا ہے کہ جس لشکر نے ہاتھیوں کو ساتھ لے کر کعبے کو ڈھانے کے لیے چڑھائی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے کہ وہ کعبے کے وجود کو مٹائیں ان کا نام ونشان مٹا دیا۔ ان کی تمام فریب کاریاں ان کی تمام قوتیں سلب کرلیں برباد و غارت کردیا یہ لوگ مذہباً نصرانی تھے لیکن دین مسیح کو مسخ کردیا تھا قریباًبت پرست ہو گئے تھے انہیں اس طرح نامراد کرنا یہ گویا پیش خیمہ تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا اور اطلاع تھی آپ کی آمد آمد کی حضور علیہ السلام اسی سال تولد ہوئے اکثر تاریخ داں حضرات کا یہی قو ل ہے تو گویا رب العالم فرما رہا ہے کہ اے قریشیو! حبشہ کے اس لشکر پر تمھیں فتح تمھاری بھلائی کی وجہ سے نہیں دی گئی تھی بلکہ اس میں ہمارے گھر کا بچاؤ تھا جسے ہم شرف بزرگی عظمت و عزت میں اپنے آخر الزمان پیغمبرحضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت سے بڑھانے والے تھے ۔
(TAFSEER MOULANA SLAH UDDIN YOUSUF)
١۔١ جو یمن سے خانہ کعبہ کی تخریب کے لئے آئے تھے، الم تعلم کیا تجھے معلوم نہیں؟ استفہام تقریر کے لیے ہے، یعنی تو جانتا ہے یا وہ سب لوگ جانتے ہیں جو تیرے ہم عصر ہیں۔ یہ اس لئے فرمایا کہ عرب میں یہ واقعہ گزرے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ مشہور ترین قول کے مطابق یہ واقعہ اس سال پیش آیا جس سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تھی، اس لئے عربوں میں اس کی خبریں مشہور اور متواتر تھیں یہ واقع مختصر! حسب ذیل ہے :
واقعہ اصحاب الفیل:
 حبشہ کے بادشاہ کی طرف سے یمن میں ابرہتہ الاشرم گورنر تھا اس نے صنعاء میں ایک بہت بڑا گرجا (عبادت گھر) تعمیر کیا اور کوشش کی کہ لوگ خانہ کعبہ کی بجائے عبادت اور حج عمرہ کے لئے ادھر آیا کریں۔ یہ بات اہل مکہ اور دیگر قبائل عرب کے لئے سخت ناگوار تھی۔ چنانچہ ان میں سے ایک شخص ابرہہ کے بنائے ہوئے عبادت خانے کو غلاظت سے پلید کر دیا، جس کی اطلاع اس کو کر دی گئی کہ کسی نے اس طرح گرجا کو ناپاک کر دیا ہے، جس پر اس نے خانہ کعبہ کو ڈھانے کا عزم کر لیا اور ایک لشکر جرار لے کر مکے پر حملہ آور ہوا، کچھ ہاتھی بھی اس کے ساتھ تھے۔ جب یہ لشکر وادی محسر کے پاس پہنچا تو اللہ تعالٰی نے پرندوں کے غول بھیج دیئے جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں تھیں جو چنے یا مسور کے برابر تھیں، جس فوجی کے بھی یہ کنکری لگتی وہ پگل جاتا اور اس کا گوشت جھڑ جاتا۔ خود ابرہہ کا بھی صنعاء پہنچتے پہنچتے یہی انجام ہوا۔ اسطرح اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت فرمائی، مکے کے قریب پہنچ کر ابرہہ کے لشکر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا کے، جو مکے کے سردار تھے، اونٹوں پر قبضہ کر لیا، جس پر عبدالمطلب نے آ کر ابرہہ سے کہا کہ تو میرے اونٹ واپس کر دے جو تیرے لشکریوں نے پکڑے ہیں۔ باقی رہا خانہ کعبہ کا مسئلہ جس کو ڈھانے کے لئے تو آیا ہے تو وہ تیرا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے، وہ اللہ کا گھر ہے، وہی محافظ ہے، تو جانے اور بیت اللہ کا مالک اللہ جانے۔ (ایسر التفاسیر)
)

( BRALVI - TAFSEER NAEEM UDDIN MURADABADI)
((ف1) سورۃ الفیل مکّیہ ہے ، اس میں ایک ۱رکوع ، پانچ ۵ آیتیں ، بیس ۲۰کلمے ، چھیانوے ۹۶ حرف ہیں ۔
(ف2) ہاتھی والوں سے مراد ابرہہ اور اس کا لشکر ہے ، ابرہہ یمن و حبشہ کا بادشاہ تھا اس نے صنعاء میں ایک کنیسہ (عبادت خانہ) بنایا تھا اور چاہتا تھا کہ حج کرنے والے بجائے مکہ مکرمہ کے یہیں آئیں اور اسی کنیسہ کا طواف کریں عرب کے لوگوں کو یہ بات بہت شاق تھی ، قبیلہ بنی کنانہ کے ایک شخص نے موقع پا کر اس کنیسہ میں قضائے حاجت کی اور اس کو نجاست سے آلودہ کردیا اس پر ابرہہ کو بہت طیش آیا اور اس نے کعبہ کے ڈھانے کی قسم کھائی اور اس ارادے سے اپنا لشکر لے کر جس میں بہت سے ہاتھی تھے اور ان کا پیش رو ایک بڑا عظیم الجثّہ کوہ پیکر ہاتھی تھا جس کا نام محمود تھا ابرہہ نے مکہ مکرمہ کے قریب پہنچ کر اہل مکہ کے جانور قید کرلئے ان میں دو سو اونٹ عبدالمطلب کے بھی تھے عبدالمطلب ابرہہ کے پاس آئے تھے بہت جسیم و باشکوہ ، ابرہہ نے ان کی تعظیم کی اور اپنے پاس بٹھایا اور مطلب دریافت کیا آپ نے فرمایا میرا مطلب یہ ہے کہ میرے اونٹ واپس کئے جائیں ابرہہ نے کہا مجھے بہت تعجب ہوتا ہے کہ میں خانہ کعبہ کو ڈھانے کے لئے آیا ہوں اور وہ تمہارا تمہارے باپ دادا کا معظّم و محترم مقام ہے تم اس کے لئے تو کچھ نہیں کہتے اپنے اونٹوں کے لئے کہتے ہو آپ نے فرمایا میں اونٹوں ہی کا مالک ہوں انہی کے لئے کہتا ہوں اور کعبہ کا جو مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت فرمائے گا ابرہہ نے آپ کے اونٹ واپس کردیئے عبدالمطلب نے قریش کو حال سنایا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ پہاڑوں کی گھاٹیوں اور چوٹیوں میں پناہ گذین ہوں چنانچہ قریش نے ایسا ہی کیا اور عبدالمطلب نے دروازہ کعبہ پر پہنچ کر بارگاہِ الٰہی میں کعبہ کی حفاظت کی دعا کی اور دعا سے فارغ ہو کر آپ اپنی قوم کی طرف چلے گئے ابرہہ نے صبح تڑکے اپنے لشکروں کو تیار ی کا حکم دیا اور ہاتھیوں کو تیار کیا لیکن محمود ہاتھی نہ اٹھا اور کعبہ کی طرف نہ چلا جس طرف چلاتے تھے چلتا تھا جب کعبہ کی طرف اس کا رخ کرتے تھے بیٹھ جاتا تھا اللہ تعالٰی نے چھوٹے چھوٹے پرند ان پر بھیجے جو چھوٹے چھوٹے سنگریزے گراتے تھے جن سے وہ ہلاک ہوجاتے تھے ۔

nine

visit 4 rad e razakhaniyat data

huge data   ............... www.razakhaniyat.weebly.com 
picture data    ..........  www.deobandcamp.weebly.com






AYAT # NINE

(سورة الحجرات )

وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ فِيْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۭ لَوْ يُطِيْعُكُمْ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ ۭاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ        Ċ۝ۙ

اور جان رکھو کہ تم میں خدا کے پیغمبر ہیں اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہا مان لیا کریں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ لیکن خدا نے تم کو ایمان عزیز بنا دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو بیزار کر دیا یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں
 (TARJUMA MOULANA FATHY MOUHAMMAD JAHLANDRI)

اور جان رکھو کہ تم میں اللہ کے رسول موجود ہیں (۱) اگر وہ تمہارا کہا کرتے رہے بہت امور میں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ لیکن اللہ تعالٰی نے ایمان کو تمہارے دلوں میں زینت دے رکھی ہے اور کفر کو اور گناہ کو اور نافرمانی کو تمہاری نگاہوں میں ناپسندیدہ بنا دیا ہے، یہی لوگ راہ یافتہ ہیں۔
 (MOULANA JUNAA GAREE)

اور جان لو کہ تم میں رسول ہے اللہ کا اگر وہ تمہاری بات مان لیا کرے بہت کاموں میں تو تم پر مشکل پڑے ف٣ پر اللہ نے محبت ڈال دی تمہارے دل میں ایمان کی اور کھبا دیا اس کو تمہارے دلوں میں اور نفرت ڈال دی تمہارے دل میں کفر اور گناہ اور نافرمانی کی وہ لوگ وہی ہیں نیک راہ پر
 (TARJUMA MEHMOOD UL HASAN)

اور جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول ہیں (ف۱۰) بہت معاملوں میں اگر یہ تمہاری خوشی کریں (ف۱۱) تو تم ضرور مشقت میں پڑو لیکن اللہ نے تمہیں ایمان پیارا کردیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں ناگوار کر دی، ایسے ہی لوگ راہ پر ہیں (ف۱۲)
 (AHMED RAZA KHAN)
TAFSIR



(ERTAFSEER IBAN E KAS)
پھر فرماتا ہے کہ جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں ان کی تعظیم و توقیر کرنا عزت وادب کرنا ان کے احکام کو سر آنکھوں سے بجا لانا تمہارا فرض ہے وہ تمہاری مصلحتوں سے بہت آگاہ ہیں انہیں تم سے بہت محبت ہے وہ تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتے ۔ تم اپنی بھلائی کے اتنے خواہاں اور اتنے واقف نہیں ہو جتنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں چنانچہ اور جگہ ارشاد ہے آیت ( اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا    ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا   Č۝) 33-الأحزاب:6) یعنی مسلمانوں کے معاملات میں ان کی اپنی بہ نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے زیادہ خیر اندیش ہیں ۔ پھر بیان فرمایا کہ لوگو تمہاری عقلیں تمہاری مصلحتوں اور بھلائیوں کو نہیں پاسکتیں انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پا رہے ہیں ۔ پس اگر وہ تمہاری ہر پسندیدگی کی رائے پر عامل بنتے رہیں تو اس میں تمہارا ہی حرج واقع ہو گا ۔ جیسے اور آیت میں ہے ( وَلَوِ اتَّبَـعَ الْحَقُّ اَهْوَاۗءَهُمْ لَــفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ  وَمَنْ فِيْهِنَّ  ۭ بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَ   71؀ۭ) 23-المؤمنون:71) یعنی اگر سچا رب ان کی خوشی پر چلے تو آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز خراب ہو جائے یہ نہیں بلکہ ہم نے انہیں ان کی نصیحت پہنچا دی ہے لیکن یہ اپنی نصیحت پر دھیان ہی نہیں دھرتے ۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ نے ایمان کو تمہارے نفسوں میں محبوب بنا دیا ہے اور تمہارے دلوں میں اس کی عمدگی بٹھا دی ہے مسند احمد میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اسلام ظاہر ہے اور ایمان دل میں ہے پھر آپ اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کرتے اور فرماتے تقویٰ یہاں ہے پرہیز گاری کی جگہ یہ ہے ۔ اس نے تمہارے دلوں میں کبیرہ گناہ اور تمام نافرمانیوں کی عداوت ڈال دی ہے اس طرح بتدریج تم پر اپنی نعمتیں بھرپور کر دی ہیں ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے جن میں یہ پاک اوصاف ہیں انہیں اللہ نے رشد نیکی ہدایت اور بھلائی دے رکھی ہے مسند احمد میں ہے احد کے دن جب مشرکین ٹوٹ پڑے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درستگی کے ساتھ ٹھیک ٹھاک ہو جاؤ تو میں نے اپنے رب عزوجل کی ثنا بیان کروں پس لوگ آپ کے پیچھے صفیں باندھ کر کھڑے ہوگئے اور آپ نے یہ دعا پڑھی (اللھم لک الحمد کلہ اللھم لا قابض لما بسطت ولا باسط لما قبضت ولا ھادی لمن اضللت ولا مضل لمن ھدیت ولا معطی لما منعت ولا مانع لما اعطیت ولا مقرب لما باعدت ولا مباعد لما قربت ۔ اللھم ابسط علینا من برکاتک ورحمتک وفضلک ورزقک۔ اللھم انی اسألک النعیم المقیم الذی لا یحول ولا یزل اللھم انی اسألک النعیم یوم العلیۃ ولا امن یوم الخوف اللھم انی عائذبک من شر ما اعطیتنا ومن شر ما منعتنا اللھم حبب الینا الایمان وزینہ فی قلوبنا وکرہ الینا الکفر والفسوق والعصیان واجعلنا من الراشدین اللھم توفنا مسلمین واحینا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا والا مفتونین اللھم قاتل الکفرۃ الذین یکذبون رسلک ویصدون عن سبیلک واجعل علیھم وجزک وعذابک اللھم قاتل الکفرۃ الذین اوتوا الکتاب الہ الحق(نسائی ) یعنی اے اللہ تمام تر تعریف تیرے ہی لئے ہے تو جسے کشادگی دے اسے کوئی تنگ نہیں کر سکتا اور جس پر تو تنگی کرے اسے کوئی کشادہ نہیں کر سکتا تو جسے گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور جسے تو ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا اور جسے تو دے اس سے کوئی باز نہیں رکھ سکتا جسے تو دور کر دے اسے قریب کرنے والا کوئی نہیں اور جسے تو قریب کر لے اسے دور ڈالنے والا کوئی نہیں اے اللہ ہم پر اپنی برکتیں رحمتیں فضل اور رزق کشادہ کر دے اے اللہ میں تجھ سے وہ ہمیشہ کی نعمتیں چاہتا ہوں جو نہ ادھر ادھر ہوں ، نہ زائل ہوں ۔ اللہ فقیری اور احتیاج والے دن مجھے اپنی نعمتیں عطا فرمانا اور خوف والے دن مجھے امن عطا فرمانا ۔ پروردگار جو تو نے مجھے دے رکھا ہے اور جو نہیں دیا ان سب کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ اے میرے معبود ہمارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال دے اور اسے ہماری نظروں میں زینت دار بنا دے اور کفر بدکاری اور نافرمانی سے ہمارے دل میں دوری اور عداوت پیدا کر دے اور ہمیں راہ یافتہ لوگوں میں کر دے ۔ اے ہمارے رب ہمیں اسلام کی حالت میں فوت کر اور اسلام پر ہی زندہ رکھ اور نیک کار لوگوں سے ملا دے ہم رسوا نہ ہوں ہم فتنے میں نہ ڈالے جائیں ۔ اللہ ان کافروں کا ستیاناس کر جو تیرے رسولوں کو جھٹلائیں اور تیری راہ سے روکیں تو ان پر اپنی سزا اور اپنا عذاب نازل فرما ۔ الہی اہل کتاب کے کافروں کو بھی تباہ کر ، اے سچے معبود ۔ یہ حدیث امام نسائی بھی اپنی کتاب عمل الیوم واللہ میں لائے ہیں ۔ مرفوع حدیث میں ہے جس شخص کو اپنی نیکی اچھی لگے اور برائی اسے ناراض کرے وہ مومن ہے پھر فرماتا ہے یہ بخشش جو تمہیں عطا ہوئی ہے یہ تم پر اللہ کا فضل ہے اور اس کی نعمت ہے اللہ مستحقین ہدایت کو اور مستحقین ضلالت کو بخوبی جانتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے ۔


(TAFSEER MOULANA SLAH UDDIN YOUSUF)
۷۔۱ جس کا تقاصا یہ ہے کہ ان کی تعظیم اور اطاعت کرو اس لیے کہ وہ تمہاے مصالح زیادہ بہتر جاتنے ہیں کیونکہ ان پر وحی اترتی ہے پس تر ان کے پیچھے چلو ان کو اپنے پیچھے چلانے کی کوشش مت کرو اس لیے کہ اگر وہ تمہاری پسند کی باتیں ماننا شروع کر دیں تو اس سے تم خود ہی زیادہ مشقت میں پڑ جاو گے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وَلَوِ اتَّبَـعَ الْحَقُّ اَهْوَاۗءَهُمْ لَــفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ) 23۔ المؤمنون:71) ۔


( BRALVI - TAFSEER NAEEM UDDIN MURADABADI)
ف10) اگر تم جھوٹ بولو گے تو اللہ تعالٰی کے خبردار کرنے سے وہ تمہارا افشاءِ حال کرکے تمہیں رسوا کردیں گے ۔
(ف11) اور تمہاری رائے کے مطابق حکم دے دیں ۔
(ف12) کہ طریق حق پر قائم رہے ۔


ten

visit 4 rad e razakhaniyat data

huge data   ............... www.razakhaniyat.weebly.com 
picture data    ..........  www.deobandcamp.weebly.com






AYAT # TEN

(سورة النعام)
وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ  75؀


اور ہم اس طرح ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہو جائیں
 (TARJUMA MOULANA FATHY MOUHAMMAD JAHLANDRI)

ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ کامل یقین کرنے والوں سے ہوجائیں (١)۔
 (MOULANA JUNAA GAREE)

اور اسی طرح ہم دکھانے لگے ابرہیم کو عجائبات آسمانوں اور زمین کے اور تاکہ اس کو یقین آجاوے ف٧
 (TARJUMA MEHMOOD UL HASAN)

اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی (ف۱٦۲) اور اس لیے کہ وہ عین الیقین والوں میں ہوجائے (ف۱٦۳)
 (AHMED RAZA KHAN)


TAFSIR


(ERTAFSEER IBAN E KAS)
امام محمد بن اسہاق رحمتہ اللہ علیہ نے ایک لمبا قصہ نقل کیا ہے جس میں ہے کہ نمرود بن کنعان بادشاہ سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا تخت تارج ہو گا تو اس نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال میری مملکت میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کر دیئے جائیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ نے جب یہ سنا تو کجھ وقت قبل شہر کے باہر ایک غار میں چلی گئیں ، وہیں حضرت خلیل اللہ پیدا ہوئے ، تو جب آپ اس غار سے باہر نکلے تب آپ نے یہ سب فرمایا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے ، بالکل صحیح بات یہ ہے کہ یہ گفتگو اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مناظرانہ تھی اپنی قوم کی باطل پرستی کا احوال اللہ کو سمجھا رہے تھے، اول تو آپ نے اپنے والد کی خطا ظاہر کی کہ وہ زمین کے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جنہیں انہوں نے فرشتوں وغیرہ کی شکل پر بنا لیا تھا اور جنہیں وہ سفارشی سمجھ رہے تھے ۔ یہ لوگ بزعم خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں جانتے تھے کہ براہ راست اللہ تعالٰی کی عبادت کریں ۔ اس لئے بطور وسیلے کے فرشتوں کو پوجتے تھے کہ وہ اللہ تعالٰی سے ان کے بارہ میں کہہ سن کر ان کی روزی وغیرہ بڑھوا دیں اور ان کی حاجتیں پوری کرا دیں پھر جن آسمانی چیزوں کو یہ پوجتے تھے ان میں ان کی خطا بیان کی ۔ یہ ستارہ پرست بھی تھے ساتوں ستاروں کو جو چلنے پھرنے والے ہیں ۔ پوجتے تھے، چاند، عطارد، زہرہ ، سورج ، مریخ ، مستری ، زحل ۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ روشن سورج ہے، پھر چاند پھر زہرہ پس آپ نے آدنیٰ سے شروع کیا اور اعلی تک لے گئے ۔ پہلے تو زہرہ کی نسبت فرمایا کہ وہ پوجا کے قابل نہیں کیونکہ یہ دوسرے کے قابو میں ہیں ۔ یہ مقررہ جال سے چلتا ۔ مقررہ جگہ پر چلتا ہے دائیں بائیں ذرا بھی کھسک نہیں سکتا ۔ تو جبکہ وہ خود بیشمار چیزوں میں سے ایک چیز ہے ۔ اس میں روشنی بھی اللہ کی دی ہوئی ہے یہ مشرق سے نکلتا ہے پھر چلتا پھرتا رہتا ہے اور ڈوب جاتا ہے پھر دوسری رات اسی طرح ظاہر ہوتا ہے تو ایسی چیز معبود ہونے کی صلاحیت کیا رکھتی ہے؟ پھر اس سے زیادہ روشن چیز یعنی چاند کو دیکھتے ہیں اور اس کو بھی عبادت کے قابل نہ ہونا ظاہر فرما کر پھر سورج کو لیا اور اس کی مجبوری اور اس کی غلامی اور مسکینی کا اظہار کیا اور کہا کہ لوگو میں تمہارے ان شرکاء سے ، ان کی عبادت سے، ان کی عقیدت سے ، ان کی محبت سے دور ہوں ۔ سنو اگر یہ سچے معبود ہیں اور کچھ قدرت رکھتے ہیں تو ان سب کو ملا لو اور جو تم سب سے ہو سکے میرے خلاف کر لو ۔ میں تو اس اللہ کا عابد ہوں جو ان مصنوعات کا صانع جو ان مخلوقات کا خالق ہے جو ہر چیز کا مالک رب اور سچا معبود ہے جیسے قرآنی
ارشاد ہے کہ تمہارا رب صرف وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا رات کو دن سے دن کو رات سے ڈھانپتا ہے ایک دوسرے کے برابر پیچھے جا آ رہا ہے سورج چاند اور تارے سب اس کے فرمان کے تحت ہیں خلق و امر اسی کی ملکیت میں ہیں وہ رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے، یہ تو بالکل ناممکن سا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ اسللام کے یہ سب فرمان بطور واقعہ کے ہوں اور حقیقت میں آپ اللہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں ۔ حالانکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے آیت (وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ) 21۔الانبیآء:51) یعنی ہم نے پہلے سے حضرت ابراہیم کو سیدھا راستہ دے دیا تھا اور ہم اس سے خوب واقف تھے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا یہ صورتیں کیا ہیں جن کی تم پرستش اور مجاورت کر رہے ہو؟ اور آیت میں ہے آیت (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ) 16۔النحل:120) ابراہیم تو بڑے خلوص والے اللہ کے سچے فرمانبردار تھے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ نے انہیں پسند فرما لیا تھا اور صراط مستقیم کی ہدایت دی تھی دنیا کی بھلائیاں دی تھیں اور آخرت میں بھی انہیں صالح لوگوں میں ملا دیا تھا اب ہم تیری طرف وحی کر رہے ہیں کہ ابراہیم حنیف کے دین کا تابعدار رہ وہ مشرک نہ تھا ، بخاری و مسلم میں ہے ، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔ صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالٰی فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا ہے ۔ کتاب اللہ میں ہے آیت (فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا    ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ    ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ) 30۔الروم:30) اللہ تعالٰی نے لوگوں کو فطرت اللہ پر پیدا کیا ہے ، اللہ کی خلق کی تبدیلی نہیں اور آیت میں ہے تیرے رب نے آدم کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکال کر انہیں ان کی جانوں پر گواہ کیا کہ کیا میں تمہارا سب کا رب نہیں ہوں؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں بیشک تو ہمارا رب ہے پس یہی فطرت اللہ ہے جیسے کہ اس کا ثبوت عنقریب آئے گا ان شاء اللہ پس جبکہ تمام مخلوق کی پیدائش دین اسلام پر اللہ کی سچی توحید پر ہے تو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جن کی توحید اور اللہ پرستی کا ثنا خواں خود کلام رحمان ہے ان کی نسبت کون کہہ سکتا ہے کہ آپ اللہ جل شانہ سے آگاہ نہ تھے اور کبھی تارے کو اور کبھی چاند سورج کو اپنا اللہ سمجھ رہے تھے ۔ نہیں نہیں آپ کی فطرت سالم تھی آپ کی عقل صحیح تھی آپ اللہ کے سچے دین پر اور خالص توحید پر تھے ۔ آپ کا یہ تمام کلام بحیثیت مناظرہ تھا اور اس کی زبر دست دلیل اس کے بعد کی آیت ہے ۔


(TAFSEER MOULANA SLAH UDDIN YOUSUF)
۔١ملکوت مبالغہ کا صیغہ ہے جیسے رغبۃ سے رغبوت اور رھبہ سے رھبوت اس سے مراد مخلوقات ہے، جیسا کہ ترجمہ میں یہی مفہوم اختیار کیا گیا ہے۔ یا ربوبیت ہے یعنی ہم نے اس کو یہ دکھلائی اور اس کی معرفت کی توفیق دی۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرش سے لے کر اسفل ارض تک کا ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو امور غیبی کا مشاہدہ کرایا۔ (فتح القدیر)

( BRALVI - TAFSEER NAEEM UDDIN MURADABADI)
(ف162) یعنی جس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دین میں بِینائی عطا فرمائی ایسے ہی انہیں آسمانوں اور زمین کے ملک دکھاتے ہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا اس سے آسمانوں اور زمین کی خَلق مراد ہے ۔ مجاہد اور سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ آیات سمٰوات و ارض مراد ہیں ، یہ اس طرح کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو صَخرہ (پتھر) پر کھڑا کیا گیا اور آپ کے لئے سماوات مکشوف کئے گئے یہاں تک کہ آپ نے عرش و کرسی اور آسمانوں کے تمام عجائب اور جنت میں اپنے مقام کو معائنہ فرمایا ، آپ کے لئے زمین کشف فرما دی گئی یہاں تک کہ آپ نے سب سے نیچے کی زمین تک نظر کی اور زمینوں کے تمام عجائب دیکھے ۔ مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ رویت بچشم باطن تھی یا بچشم سر ۔ (درِّ منثور و خازن وغیرہ)
(ف163) کیونکہ ہر ظاہر و مخفی چیز ان کے سامنے کر دی گئی اور خَلق کے اعمال میں سے کچھ بھی ان سے نہ چھپا رہا ۔


eight

visit 4 rad e razakhaniyat data

huge data   ............... www.razakhaniyat.weebly.com 
picture data    ..........  www.deobandcamp.weebly.com






AYAT # EIGHT

(سورة الانفال)
وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ۭ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ  33؀

اور خدا ایسا نہ تھا کہ جن تک تم ان میں تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور نہ ایسا تھا کہ وہ بخش مانگیں اور انہیں عذاب دے۔
 (TARJUMA MOULANA FATHY MOUHAMMAD JAHLANDRI)

اور اللہ تعالٰی ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے (١) اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے ہوں (٢)۔
 (MOULANA JUNAA GAREE)

اور اللہ ہرگز نہ عذاب کرتا ان پر جب تک توُ رہتا ان میں ف ٥ اور اللہ ہرگز نہ عذاب کرے گا ان پر جب تک وہ معافی مانگتے رہیں گے ف ٦
 (TARJUMA MEHMOOD UL HASAN)

اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب! تم ان میں تشریف فرما ہو (ف۵٤) اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں (ف۵۵)
 (AHMED RAZA KHAN)



TAFSIR






(ERTAFSEER IBAN E KAS)
اسی لئے ان کے اس قول کو نقل کر کے جناب باری نے فرمایا ہے کہ انہیں جواب دے کہ اسے تو آسمان و زمین کی تمام غائب باتوں کے جاننے والے نے اتارا ہے جو غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے ۔ توبہ کرنے والوں کی خطائیں معاف فرماتا ہے ، اپنے سامنے جھکنے والوں پر بڑے کرم کرتا ہے۔ پھر ان کی جہالت کا کرشمہ بیان ہو رہا ہے کہ چاہئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالٰی سے دعا کرتے کہ یا اللہ اگر یہ حق ہے تو ہمیں اس کی ہدایت دے اور اس کی اتباع کی توفیق نصیب فرما لیکن بجائے اس کے یہ دعا کرنے لگے کہ ہمیں جلد عذاب کر ۔ بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ہرچیز کا وقت مقرر ہے ورنہ اس پر بھی عذاب آ جاتا لیکن اگر تمہارا یہی حال رہا تو پھر بھی وہ دن دور نہیں اچانک ان کی بےخبری میں اپنے وقت پر آ ہی جائے گا ۔ یہ تو کہا کرتے تھے کہ ہمارا فیصلہ فیصلے کے دن سے پہلے ہی ہو جائے گا بطور مذاق عذاب کے واقع ہونے کی درخوات کرتے تھے جو کافروں پر آنے ولاا ہے ، جسے کوئی روک نہیں سکتا، جو اس اللہ کی طرف سے ہو گا جو سیڑھیوں والا ہے ۔ اگلی امتوں کے جاہلوں کا بھی یہی وطیرہ رہا ۔ قوم شعیب نے کہا تھا کہ اے مدعی نبوت اگر تو سجا ہے تو ہم پر آسمان کو گرا دے۔ اسی طرح ان لوگوں نے کہا ۔ ابو جہل وعیرہ نے یہ دعا کی تھی جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ رسول اللہ کی موجودگی اور انہی میں سے بعض کا استغفار اللہ کے عذاب کی ڈھال ہے ۔ نصر بن حارث بن کلدہ نے بھی یہی دعا کی تھی جس کا ذکر سال سائل میں ہے ان کے اسی قول کا ذکر آیت وقالو ربنا عجل لنا الخ، میں ہے اور آیت ولقد جئتمو نا فرادی الخ، میں ہے اور آیت سال سائل الخ، میں ہے ۔ غرض دس سے اوپر اوپر آیتیں اس بیان میں ہیں ۔ عمرو بن عاص جنگ احد میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا لا یا ہوا دین حق ہے تو مجھے مریے گھورے سمیت زمین میں دھنسا دے گو اس امت کے بع وقوفوں نے یہ تمنا کی لیکن اللہ نے اس امت پر رحم فرمایا اور جواب دیا کہ ایک تو پیغمبر کی موجودگی عام عذاب سے مانع ہے دوسرے تم لوگوں کا استغفار ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کا بیان ہے کہ مشرک حج میں طواف کے وقت کہتے تھے لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے بس بس لیکن وہ پھر کہتے الا شریک ھو لک تملیکہ و ما ملک یعنی ہم حاضر ہیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں ۔ پھر کہتے ہاں وہ شریک جو خود بھی تیری ملکیت میں ہیں اور جن چیزوں کو وہ مالک ہیں ان کا بھی اصل مالک تو ہی ہے اور کہتے غفوانک غفوانک اے اللہ ہم تجھ سے استغفار کرتے ہیں اے اللہ تو ہمیں معاف فرما ۔ اسی طلب بخشش کو عذاب کے جلد نہ آنے کا سبب بتایا گیا ہے ۔ فرماتے ہیں ان میں دو سبب تھے ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے استغفار پس آپ تو چل دیئے اور استغفار باقی رہ گیا قرشی آپ سمیں کہا کرتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اللہ نے ہم میں سے ہم پر بزرگ بنایا اے اللہ اگر یہ سچا ہے تو تو ہمیں عذاب کر ۔ جب ایمان لائے تو اپنے اس قول پر برا ہی نادم ہوئے اور استغفار کیا اسی کا بیان دوسری آیت میں ہے ۔ پس انبیاء کی موجودگی میں قوموں پر عذاب نہیں آتا ہاں وہ نکل جائیں پھر عذاب برس پڑتے ہیں اور چونکہ ان کی قسمت میں ایمان تھا اور بعد از ایمان وہ استغفار اہل مکہ کے لئے باعث امن و امان تھا ۔ ان دو وجہ امن میں سے ایک تو اب نہ رہا دوسرا اب بھی موجود ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھ پر دو امن میری امت کیلئے اترے ہیں ایک میری موجودگی دوسرے ان کا استغفار پس جب میں چلا جاؤ گا تو استغفار قیامت تک کیلئے ان میں چھوڑ جاؤں گا ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ شیطان نے کہا اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم میں تو جب تک تیرے بندوں کے جسم میں روح ہے انہیں بہکاتا رہوں گا ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا مجھے بھی میری جلالت اور میری بزرگی کی قسم جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا (مستدرک حاکم) مسند احمد میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بندہ اللہ کے عذابوں سے امن میں رہتا ہے جب تک وہ اللہ عزوجل سے استغفار کرتا ہے ۔


(TAFSEER MOULANA SLAH UDDIN YOUSUF)
٣٣۔١ یعنی پیغمبر کی موجودگی میں قوم پر عذاب نہیں آتا، اس لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود گرامی ان کے حفظ و امان کا سبب تھا۔
٣٣۔٢ اس سے مراد یہ ہے کہ آئندہ مسلمان ہو کر استغفار کریں گے، یا یہ کہ طواف کرتے وقت مشرکین
غَفْرَانَکَ رَبَّنَا غْفُرَانَکَ کہا کرتے تھے۔



( BRALVI - TAFSEER NAEEM UDDIN MURADABADI)
((ف54) کیونکہ رحمۃ لِلعالمین بنا کر بھیجے گئے ہو اور سنّت الٰہیہ یہ ہے کہ جب تک کسی قوم میں اس کے نبی موجود ہوں ان پر عام بربادی کا عذاب نہیں بھیجتا جس سے سب کے سب ہلاک ہوجائیں اور کوئی نہ بچے ۔ ایک جماعت مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس وقت نازل ہوئی جب آپ مکّہ مکرمہ میں مقیم تھے پھر جب آپ نے ہجرت فرمائی اور کچھ مسلمان رہ گئے جو استغِفار کیا کرتے تھے تو ( وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ۭ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ  33؀) 8-الانفال:33) نازل ہوا جس میں بتایا گیا کہ جب تک استغِفار کرنے والے ایماندار موجود ہیں اس وقت تک بھی عذاب نہ آئے گا پھر جب وہ حضرات بھی مدینہ طیبہ کو روانہ ہو گئے تو اللہ تعالٰی نے فتحِ مکہ کا اِذن دیا اور یہ عذاب مَوعود آگیا جس کی نسبت اس آیت میں فرمایا ' وَمَالَھُمْ اَلَّا یُعَذِّبَھُمُ اللّٰہُ ' محمد بن اسحاق نے کہا کہ ( وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ۭ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ  33؀) 8-الانفال:33) بھی کُفَّار کا مقولہ ہے جو ان سے حکایۃً نقل کیا گیا ، اللہ عزوجل نے ان کی جہالت کا ذکر فرمایا کہ اس قدر احمق ہیں ، آپ ہی تو یہ کہتے ہیں کہ یاربّ اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر نازل کر اور آپ ہی یہ کہتے ہیں کہ یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) جب تک آپ ہیں عذاب نازل نہ ہوگا کیونکہ کوئی امت اپنے نبی کی موجودگی میں ہلاک نہیں کی جاتی ، کس قدر مُعارِض اقوال ہیں ۔
(ف55) اس آیت سے ثابت ہوا کہ استغِفار عذاب سے امن میں رہنے کا ذریعہ ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے میری امت کے لئے دو امانیں اتاریں ۔ ایک میرا ان میں تشریف فرماہونا ، ایک ان کا استغِفار کرنا ۔